ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منفی فیڈ بیک کو مثبت میں لینا ہی ترقی کی ضمانت ہے؛ بھٹکل انجمن میں ملیشیاء کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا خطاب

منفی فیڈ بیک کو مثبت میں لینا ہی ترقی کی ضمانت ہے؛ بھٹکل انجمن میں ملیشیاء کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا خطاب

Tue, 26 Feb 2019 18:40:40    S.O. News Service

بھٹکل 26/فروری (ایس او نیوز) نیگیٹو فیڈ بیک کوکبھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے، کسی بھی ادارے کے لئے منفی فیڈ بیک سب سے اہم رول ادا کرتے ہیں، اسی فیڈ بیک کی بنیاد پر کامیابی کے زینے طئے کئے جاسکتے ہیں۔ منفی فیڈ بیک کو مثبت انداز میں لینا دراصل ترقی  کی ضمانت ہے،  ان خیالات کا اظہار ملیشیاء کے ماہر تعلیم اور وائس چانسلروں کو ٹریننگ دینے والے  ڈاکٹر سہل حمیدبن ابوبکر نے کیا۔ موصوف بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کی دعوت پر یہاں بھٹکل انجمن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے  کانفرنس ہال میں انجمن فیکلٹی ممبرس سے مخاطب تھے۔

پچاس سے زائد وائس چانسلرس کو ٹریننگ دینے والے سہل احمد نے بتایا کہ وہ جرمنی ، انگلینڈ اور امریکہ میں  لیکچردینے کے لئے اُن ممالک کا دورہ  کرتے رہتے ہیں۔موصوف اکسفورڈ یونیورسٹی  میں بھی مہمان لیکچرر کی حیثیت سے مدعو ہوتے ہیں۔ موصوف گذشتہ دیڑھ سالوں سے بی ایس اے کریسنٹ یونیورسٹی میں وایس چانسلر کے عہدہ پر فائز ہیں۔

لیڈرشپ اِن ہائیر ایجوکیشن کے موضوع پر بھٹکل میں ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے  انہوں نے انجمن کے لیکچررس اور ٹیچرس کو کئی مفید مشوروں سے نوازا، انہوں نے کہا کہ  اداروں کو کامیابی کی بلندی پر لے جانا چاہتے ہوں تو اپنے اندر کی انا کو ختم کریں، اپنے جونئیر لوگوں سے بھی  رائے مشورے لیں، اُن کے ساتھ بھی مل بیٹھیں، دوستانہ ماحول میں بات چیت کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک لیڈر کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ  اپنے دو کانوں اور ایک زبان کو صحیح استعمال کریں،  ڈاکٹر سہل نے بتایا کہ اللہ نے آپ کو دو کان اس لئے دئے ہیں کہ  آپ دوسروں کی زیادہ سنیں اور زبان صرف ایک اس لئے دی ہے کہ کم بات کریں۔ لیڈر شپ کے تعلق سے انہوں نے واضح کیا کہ لوگوں کو جب تک آپ پر اعتماد نہیں ہوگا، آپ لیڈر نہیں بن سکتے، لیڈرشپ کے لئے سب سے زیادہ اہم  لوگوں کا اعتماد ہے۔

 لیکچررس اور ٹیچرس  سمیت انجمن کے ذمہ داروں سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کبھی بھی طلبا کو اپنا کسٹمر نہ سمجھیں، دراصل طلبا کے والدین اور سماج آپ کے کسٹمرس ہیں، آپ ان کو جوابدہ ہیں، اس بات کو دھیان میں رکھ کر تعلیم  کے میدان میں آگے بڑھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب تک لیڈرشپ صحیح نہیں ہوگی،  کامیابی نہیں ملے گی، اسی طرح اداروں کو ترقی پانا ہے  تو تبدیلی لانی ضروری ہے۔

ہندوستانی تعلیمی نظام سب سے بہترین:   ورک شاپ کے بعد شام کو اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے  سہل حمید نے بتایا کہ ہندوستانی تعلیمی نظام سب سے بہتر ہے۔ کئی ممالک ہندوستانی تعلیمی نظام کو بے حد پسند کرتے ہیں یہاں سے سیکھتے  ہیں۔ یہاں کے تعلیمی نظام میں کسی طرح کی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستانی حکومت نے  جو تعلیمی نظام کے لئے جوقوانین بنائے ہیں، اگر تمام یونیورسٹیاں  سرکاری پالیسی  پر عمل کریں تو  بہت ہی فائدہ ہوسکتا ہے۔

سہل احمد نے بتایا کہ وہ دنیا گھوم چکے ہیں، مگر ہندوستان کے پاس جو دماغ ہے، وہ کسی دوسرے ملک میں نہیں ہے، یہاں کے لوگ بے حد ذہین ہیں۔ کبھی کبھار وہ لوگ بہت زیادہ جذباتی ہوجاتے ہیں، جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔  ہندوستانی نوجوانوں کو انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ دیں۔ سوشیل میڈیا  بالخصوص وہاٹس ایپ کا استعمال بند کریں۔ سوشیل میڈیا نوجوانوں کے دماغوں کو خراب کررہا ہے، وہاٹس ایپ کا غلط استعمال بہت زیادہ ہورہا ہے، انہوں نے سینما پر بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ  سینما  میں ماردھاڑ اور غندہ گردی کو  زیادہ دکھایا جاتا ہے، نوجوانوں کے لئے ضروری ہے کہ ان چیزوں سے اجتناب کریں۔


Share: